جہاں نہ خوشی کی تلاش باقی رہتی ہے،
نہ دکھ کا سایہ...
صرف ایک ایسی مکملیّت ہوتی ہے
جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
کیا ہمیشہ کی جنت... واقعی ہمیشہ خوشی دے گی؟
کہانی کچھ یوں ہے کہ ایک رات، خاموشی میں لپٹی ہوئی، جب سب کچھ ساکت تھا — نہ ٹریفک کا شور، نہ فون کی گھنٹیاں، صرف میں اور میرے خیالات تھے۔ اچانک دل میں ایک سوال نے جنم لیا۔ ایسا سوال جس کا تعلق دنیا سے نہیں، بلکہ اُس دنیا سے تھا جس کے بارے میں ہم نے صرف سنا ہے — جنت۔
میں نے خود سے پوچھا: "اگر جنت واقعی ہمیشہ کی ہے… تو کیا وہ کبھی بورنگ ہو سکتی ہے؟"
تصور کرو: ایک ایسی جگہ جہاں نہ موت ہے، نہ دکھ، نہ جدائی، نہ آنکھوں میں نمی۔ جہاں ہر طرف روشنی ہی روشنی ہے، سکون ایسا کہ دل کی دھڑکن بھی ساز بن جائے۔ سُنا تو یہی ہے نا بچپن سے؟ لیکن پھر دماغ کہتا ہے — اگر ہر روز خوشی ہی خوشی ہو، ہر چیز مکمل ہو، تو ایک دن… کیا وہ خوشی بے ذائقہ نہیں ہو جائے گی؟
دنیا کی خوشی، دکھ کے بعد آتی ہے
دنیا میں ہم خوش تب ہوتے ہیں جب پہلے کچھ کھویا ہو۔ بارش تب اچھی لگتی ہے جب گرمی سے تنگ آ چکے ہوں۔ آرام تب میٹھا لگتا ہے جب جسم تھک چکا ہو۔ محبت کی شدت تب سمجھ آتی ہے جب جدائی کا درد سہ چکے ہوں۔
تو اگر جنت میں کبھی دکھ ہی نہ ہو، تو وہاں کی خوشی کی شدت کہاں سے آئے گی؟
شاید جنت کا سکون مختلف ہو
میں نے یہ سوال دل میں رکھا، کچھ دیر خاموشی سے سوچتا رہا۔ پھر دل نے خود ہی سرگوشی کی: "شاید جنت کی خوشی دنیا کی خوشی جیسی ہی نہیں۔"
شاید وہاں ہر لمحہ نیا ہو، ہر تجربہ پہلے سے مختلف، ہر سکون میں ایک نئی گہرائی، ہر روشنی میں ایک الگ خوشبو۔ شاید وہاں بور ہونے کا وقت ہی نہ ہو — کیونکہ وقت وہاں رکتا نہیں، بلکہ بدلتا ہی نہیں۔
کمی نہیں، قربت ہے
ہم دنیا میں بور اس لیے ہوتے ہیں کیونکہ ہم ادھورے ہوتے ہیں — کسی کی کمی، کسی خواب کی تشنگی، کسی لمحے کا بوجھ — یہ سب چیزیں ہمیں گھیرے رکھتی ہیں۔
مگر جنت؟ وہاں روح مکمل ہو جاتی ہے۔ نہ کوئی سوال باقی رہتا ہے، نہ کوئی خلا۔
آخری بات
اور تب مجھے سمجھ آیا: شاید جنت کی اصل خوشی یہی ہے — کہ وہاں ہر دن ایک نیا آغاز ہو، لیکن بغیر کسی انجام کے۔ جہاں ہر لمحہ اتنا مکمل ہو کہ اسے کسی اور لمحے کی ضرورت ہی نہ ہو۔
یہ سوال اب بھی میرے دل میں ہے، مگر اب وہ ایک تشویش نہیں، بلکہ ایک دعا بن گیا ہے۔
یا اللہ! اگر جنت واقعی ایسی ہے — تو مجھے اُس مقام تک پہنچا دے جہاں خوشی کبھی معمولی محسوس نہ ہو، اور جہاں سکون… کبھی بورنگ نہ لگے۔
شاید جنت بور نہیں ہوتی، شاید ہم ابھی جنت کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔
No comments:
Post a Comment